info@crcpk.org +92 306 0025592
Karachi, Pakistan
Theology

اگر تثلیث کے تین اقانیم (باپ، بیٹا، روح القدس) برابر و ازلی ہیں تو پھر کیوں ہم ان کو ایک دوسرے کے نام سے موسوم نہیں کرتے؟ اگر بیٹا، باپ کے برابر ہے تو کیوں بیٹے کو "باپ" یا "روح القدس" کہنا درست نہیں؟

سوال

اگر تثلیث کے تین اقانیم (باپ، بیٹا، روح القدس) برابر و ازلی ہیں تو پھر کیوں ہم ان کو ایک دوسرے کے نام سے موسوم نہیں کرتے؟ اگر بیٹا، باپ کے برابر ہے تو کیوں بیٹے کو "باپ" یا "روح القدس" کہنا درست نہیں؟

جواب

یہ اعتراض بظاہر اقانیمِ ثالوث کی وحدتِ ذاتی اور مساواتِ ازلی پر مبنی ہے، لیکن اس میں ایک بنیادی مغالطہ ہے جو ناقد کرتا ہے، اور وہ ہے عدمِ تمییز بین الذات والاختصاص، یعنی ذات اور اس کی شخصی تمیز کے درمیان فرق نہ کرنا۔

1. اقنوم اور ذات کا فرق

مسیحی الٰہیات کے مطابق "الٰہی ذات" (Ousia / Οὐσία in Greek, Substantia in Latin) ایک ہے، یعنی خدا کی ذات، جو غیر مخلوق، ازلی، لامحدود اور قائم بالذات ہے۔

لیکن اسی ایک ذات میں اقانیمی تمیز (Hypostases / Υποστάσεις) موجود ہیں:

باپ (Father) — غیر مولود

بیٹا (Son / Logos) — مولودِ ازلی، یعنی باپ سے مولود ہوا، "بطونِ ذات" میں

روح القدس (Holy Spirit) — ازلی طور پر باپ اور بیٹے سے صادر ہوا، نہ کہ تخلیق یا مولود کے طور پر، بلکہ تعلقِ محبت اور اشتراکِ ذات کے طور پر

2. کیا ہم اقانیم کو ایک دوسرے کے نام سے موسوم کر سکتے ہیں؟

ہرگز نہیں، کیونکہ اقانیم خاص تمیز رکھتے ہیں، جنہیں "متمیَّز صفات" کہا جاتا ہے:

باپ — غیر مولود

بیٹا — مولود

روح القدس — صادر

لہٰذا، اگرچہ تینوں اقانیم ذات میں مساوی ہیں، لیکن ان کی اقانیمی شناخت جدا اور مخصوص ہے۔ یہی وجہ ہے کہ:

بیٹے کو "باپ" کہنا منطقی و الٰہیاتی غلطی ہے۔

روح القدس کو "بیٹا" کہنا بھی ایسا ہی ہے، کیونکہ وہ صادر ہے، مولود نہیں۔

باپ کو "روح القدس" کہنے کا مطلب ہوگا اُس ماہیتِ اختصاص کو مسخ کرنا۔

3. ترجیح بلا مرجح کیوں لاگو نہیں ہوتی؟

کچھ لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر ہم باپ کو اول، بیٹے کو دوم، اور روح القدس کو سوم کہتے ہیں تو یہ ایک درجہ بندی (Hierarchy) کو ظاہر کرتا ہے، جو اُن کی مساوات کے خلاف ہے۔

یہ ایک اشتباہِ اصطلاحی ہے۔ یہ ترتیب زمانی یا مقاماتی نہیں بلکہ صرف توصیفی و منطقی ہے، تاکہ انسانی فہم میں فرق واضح کیا جا سکے۔

یہ اصطلاحات:

"اول" — ازلی مولودیت کے سرچشمہ (Source of eternal begetting)

"دوم" — مولود، لیکن بطونِ ذات میں، ازلی طور پر

"سوم" — صادر، لیکن محدود نہیں بلکہ ازلی و غیر مخلوق

یہ ترتیب کسی افضیلت یا فوقیت کو ظاہر نہیں کرتی، کیونکہ اقانیم ذات میں ایک ہیں۔

لہٰذا

اقانیم کو ایک دوسرے کے نام سے موسوم کرنا غلط ہے کیونکہ یہ ان کے اختصاصات کو باطل کر دیتا ہے۔

"ترجیح بلا مرجح" کا اعتراض باطل ہے، کیونکہ ترتیبِ مراتب ذات پر نہیں بلکہ صرف صدور اور مولود کے تعلق پر مبنی ہے۔

باپ، بیٹا اور روح القدس ماہیت میں برابر، صفات میں متحد، اور اقانیمی تمیز میں ممتاز ہیں۔

اختتامی اقتباس (اثناسِیُس کے مطابق):

"There is unity in essence, distinction in persons, and equality in divinity."

Share this article:
Older Post انسانیتِ یسوع مسیح مصالحتِ نوعِ بشر اور نجات عامّہ کی ناقابلِ تنسیخ ضمانت ہے Newer Post سلطنت دو حصوں میں بٹ گئی