انسانیتِ یسوع مسیح مصالحتِ نوعِ بشر اور نجات عامّہ کی ناقابلِ تنسیخ ضمانت ہے۔ اقنوم ثانی تجسم اختیار فرما کر بشر بنا — «اور کلام مُجّسم ہُؤا اور فضل اور سچائی سے معمور ہو کر ہمارے درمیان رہا، اور ہم نے اُس کا ایسا جلال دیکھا جیسا باپ کے اِکلوتے کا جلال» (انجیل بمطابق یوحنا، 1 : 14) یہ تجسّد اس امر کا مظہر ہے کہ محبتِ خداوندی خود انسان کی سرحدوں میں داخل ہوئی تاکہ بشریت کو اپنی آغوشِ رحمت میں سمیٹ کر دلِ آدم کو رفاقتِ اِلٰہیہ کے حلقۂ صَفا میں داخل کریں اسی لیے رسولِ اعظم اعلان کرتا ہے کہ «سب چیزیں خدا کی طرف سے ہیں، جس نے مسیح کے وسیلہ سے ہمارا اپنے ساتھ میل ملاپ کر لیا… خدا نے مسیح میں ہو کر دنیا کا اپنے ساتھ میل ملاپ کر لیا» (۲ کُرنتھیوں، 5 : 18-19) اور پولُس مزید تصدیق کرتا ہے: «جب باوجود دشمن ہونے کے خدا سے اُس کے بیٹے کی موت کے وسیلہ سے ہمارا میل ہو گیا، تو میل ہونے کے بعد ہم اُس کی زندگی کے سبب سے ضرور ہی بچیں گے» (رومیوں، 5 : 10) یوں انسانیتِ مسیح نہ صرف تجسم اِلٰہی ہے بلکہ وہ وہی کامل انسان بھی ہے جس میں عملِ مصالحت پوری انسانیت کے لیے بالفعل وقوع پذیر ہوا۔ یہ عمل بامِ کمال صلیب پر پہنچا، جہاں «باپ کو یہ پسند آیا کہ ساری معموری اُسی (مسیح) میں سکونت کرے، اور اُس کے خون کے سبب سے جو صلیب پر بہا صلح کر کے سب چیزوں کا اُسی کے وسیلہ سے اپنے ساتھ میل کر لے» (کُلسیوں، 1 : 19-20) تاہم اس مصالحت کی مہرِ ابدی قیامت پر ثبت ہوئی، چنانچہ رسول کہتا ہے: «لیکن فی الواقع مسیح مردوں میں سے جی اُٹھا ہے اور جو سو گئے ہیں اُن میں پہلا پھل ہوا۔ کیونکہ جب آدمی کے سبب سے موت آئی تو آدمی ہی کے سبب سے مردوں کی قیامت بھی آئی، اور جیسے آدم میں سب مرتے ہیں ویسے ہی مسیح میں سب زندہ کئے جائیں گے» (۱ کُرنتھیوں، 15 : 20-22) پس قیامت یافتہ انسانیتِ یسوعِ مسیح ہی وہ ابدی عہد ہے جو مصالحت و نجات نوعِ آدم کی قطعی اور دائمی ضمانت بن کر قائم ہے۔ ڈاکٹر پادری تھامس سعید
Share this article: