info@crcpk.org +92 306 0025592
Karachi, Pakistan
Biblical Studies

الوہیتِ مسیح بطورِ ضامنِ الہام

الوہیتِ مسیح بطورِ ضامنِ الہام

الوہیتِ مسیح بطورِ ضامنِ الہام ٹورنس اس امر پر اصرار کرتے ہیں کہ یسوع مسیح کی کامل الوہیت—بطورِ کلمہ و ابن—ہی وہ اساس ہے جس کے ذریعے باپ کی کامل معرفت ہمیں عطا ہوتی ہے۔ مولود ازلی، جو تثلیث کے قلب میں ابدی طور پر روح القدس کے ساتھ باپ کو پہچانتا اور محبت کرتا ہے، اسی باطنی رفاقتِ معرفت و محبت سے باہر نکل کر مخلوق کو خدا کا عرفان بخشتا ہے۔ چنانچہ معرفتِ الٰہی صرف اسی وقت معتبر ہوتی ہے جب وہ اُس اقنوم سے صادر ہو جو خود خداوندی رفاقت کا جزوِ لاینفک ہو۔ یسوع مسیح ہی وہ واحد شخصیت ہیں جو اس باطنی رفاقت سے خدا کو جانتے اور غیر میں اُس کا انکشاف فرماتے ہیں۔ جیسا کہ ٹورنس اپنے مہم ترین آیات میں سے ایک کو بار بار نقل کرتے ہیں: > “باپ کو کوئی نہیں جانتا مگر بیٹا، اور وہ جس پر بیٹا اُسے ظاہر کرے” (متی ۱۱:۲۷). پس “خدا کو صرف خدا جان سکتا ہے، اور خدا صرف خدا کے وسیلہ سے پہچانا جا سکتا ہے۔” یہی مولود ازلی کی کامل الوہیت ہے جو ہمیں وثوق بخشتی ہے کہ اُس کے ذریعے حاصل ہونے والی خدا شناسی قطعی، حتمی اور لا زوال حق ہے، کیونکہ وہ خدا ہی کی گہرائیوں سے نکل کر باپ کو آشکار کرتا ہے۔ الوہیتِ مسیح بطورِ ضامنِ مصالحت چونکہ یسوع مسیح حقیقی خدا ہیں، اس لیے صرف خدا کو ظاہر ہی نہیں کرتے بلکہ اُن کے تمام افعال خود عملِ الٰہی ہیں۔ اُن کا کلام و کردار، اُن کی محبت و شفقت، دراصل باپ ہی کی محبت، شفقت اور کلام ہے؛ ان کی بخشش ہی خدا کی بخشش ہے۔ ٹورنس اسی تطابقِ ذات و فعل پر غیر معمولی زور دیتے ہوئے کہتے ہیں: > “یسوع کی پشت کے پیچھے کوئی اور خدا نہیں۔” یعنی خدا وہی ہے جو ہم یسوع میں دیکھتے ہیں، اور خدا کا کوئی عمل اُس عمل سے جدا نہیں جو یسوع مسیح نے انجام دیا۔ چنانچہ یسوع میں جو مصالحت ہم مشاہدہ و قبول کرتے ہیں، وہ درحقیقت خود خدا کی مصالحت ہے۔ ابنِ الٰہی کی یہی الوہیت اُس اٹل ضمانت کی حیثیت رکھتی ہے کہ نجات، کفارے اور معافی کا جو فیضان مسیح کے ذریعے ہم تک پہنچا، وہ براہِ راست خدا تعالیٰ کا اپنا فیضان ہے—بے کم و کاست، بلا حجاب۔ ڈاکٹر تھامس سعید

Share this article:
Older Post لص یمین Newer Post عالم اگر عاجز نہیں تو وہ گویا "ظرفِ خالی" ہے جو کبھی بھر نہیں سکتا