علم محض الفاظ کے انبار یا دلائل کا زعم نہیں، بلکہ ایک ایسی روحانی قوت ہے جو انسان کو حقیقت کی گہرائی تک لے جاتی ہے۔ فلسفہ سکھاتا ہے کہ علم وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں غرور ختم ہوتا ہے۔ عالم اگر عاجز نہیں تو وہ گویا "ظرفِ خالی" ہے جو کبھی بھر نہیں سکتا۔ اور پولس رسول کہتا ہے: "علم غرور پیدا کرتا ہے، مگر محبت ترقی کا باعث ہے۔" (1 کرنتھیوں 8 : 1)
پولس کا جملہ "علم غرور پیدا کرتا ہے، مگر محبت ترقی (پستی سے بلندی کی طرف چڑھنا) باعث ہے" — (۱ کرنتھیوں 8 : 1) دراصل کرنتھ کی اُس عملی صورتِ حال پر فلسفیانہ تنقید ہے جہاں کچھ لوگ "γνῶσις / گنوسِس" (نظری علم) کے سہارے بتوں کے نام پر چڑھے گوشت کھانے کی اپنی آزادی کو جائز ٹھہرا رہے تھے، مگر کمزور ضمیر والوں کو ٹھیس لگ رہی تھی۔
پولس کہتا ہے کہ ایسا "علم" انسانِ اجتماعی کو غرور φυσιοῖ / فوسیؤ ہے — یہاں "φυσιοῖ" ایک استعارہ ہے جو غرور سے پھول جانے کے معنوں میں آیا ہے، جیسے غبارہ ہوا سے بھر جائے۔ پولس اس فعل کے ذریعے یہ بتاتا ہے کہ جب علم محبت سے الگ ہو جائے تو وہ انسان کو اخلاقی طور پر پھلا دیتا ہے، یعنی خودپسندی اور برتری کے زعم میں مبتلا کرتا ہے۔
جبکہ محبت οἰκοδομεῖ / ایکودومئی (عمارت اٹھاتی / تعمیر کرتی) ہے۔ پولس کلیسیا کو "خدا کی عمارت" کہتا ہے (1 کرنتھیوں 3 : 9)، اور "οἰκοδομεῖ" اس عمل کو ظاہر کرتا ہے جس سے خدا اپنے لوگوں کو روحانی طور پر مستحکم کرتا ہے۔ یعنی محبت صرف جذباتی خیرخواہی نہیں بلکہ دوسرے کو مضبوط کرنے، سنوارنے، اور خدا کے مقصد کے مطابق اُٹھانے کا عمل ہے۔
کیونکہ ἀγάπη / اَگاپے شخص اور برادری کے خیرِ مشترک کو غایت بناتی ہے۔ فلسفیانہ زبان میں، مجرد معلومات (episteme / gnosis) جب حکمتِ عملی (φρόνησις / فرونیسس) اور محبت کے درست نظم (Augustine کا ordo amoris) کے تحت نہ ہو تو وہ "خیرِ غائی" سے کٹ کر تفاخر (superbia) میں ڈھل جاتی ہے۔
اسی لیے ارسطو کی طرح پولس بھی اشارہ کرتا ہے کہ فضیلت صرف جاننے سے نہیں، بلکہ بھلائی کے عملی انتخاب سے بنتی ہے۔ چنانچہ پولس کی علتِ غائی یہ ہے: سچّا علم وہ ہے جو اپنی آزادی کو دوسروں کی بھلائی کے لیے محدود کرے، کیونکہ "جس کمزور کے لیے مسیح مرا" اُس کے ضمیر کو مجروح کرنا علم نہیں، محبت کی نفی ہے؛ اور محبت ہی وہ علتِ فاعلہ و غائی ہے جو فرد نہیں بلکہ کلیسیا کی عمارت کھڑی کرتی ہے۔
مقدس آگسٹین نے کہا: "اگر تم آسمان چھونا چاہتے ہو تو پہلے خاک بننا سیکھو۔"
افلاطون کہتا ہے: "دانائی کی ابتدا الفاظ کے معانی جاننے سے ہوتی ہے۔" یہی وجہ ہے کہ مطالعہ صرف پڑھنا نہیں بلکہ سمجھنا اور دریافت کرنا ہے۔ جب ایک عالم دوسرے کی تحریر کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ اس کی فکر میں شریک ہوتا ہے۔
ارسطو کے مطابق: "جو شخص خود کو خود سکھانے والا سمجھتا ہے، دراصل ایک جاہل استاد کا شاگرد ہے۔" اسی لیے فلسفہ کہتا ہے کہ انسان علم میں دوسروں کے کندھوں پر کھڑا ہو کر ہی دور دیکھ سکتا ہے۔
آئزک نیوٹن نے کہا تھا: "اگر میں دور تک دیکھ پایا ہوں تو یہ اُن دیوقامت لوگوں کے کندھوں پر کھڑے ہونے کی بدولت ہے۔" یہ وہی فلسفیانہ اصول ہے جو سکھاتا ہے کہ دوسروں کو گرا کر نہیں بلکہ ان کے علم سے سیکھ کر آگے بڑھا جاتا ہے۔
جس قوم کے علماء ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہوں وہاں علم کا زوال اور شرارت کا عروج ہوتا ہے۔
سقراط کے نزدیک علم، فضیلت (Virtue) کی بنیاد ہے — مگر وہ کہتا ہے: "حقیقی علم اس اعتراف میں ہے کہ انسان جانتا ہے کہ وہ کچھ نہیں جانتا۔"
یہی عاجزی علم کا پہلا دروازہ ہے۔ عالم کو چاہیے کہ وہ اپنے علم کو دوسروں کی تحریروں سے سنوارے، نہ کہ اپنے ہم عصر علما پر طنز کے تیر برسا کر خود کو عالم ظاہر کرے۔
بائبل مقدس میں علم کی اصل بنیاد خدا کا خوف قرار دی گئی ہے: "خداوند کا خوف علم کا شروع ہے۔" (امثال 1 : 7)
تمثیل
فرض کیجیے، ایک آدمی تین فٹ کا ہے اور دوسرا چھ فٹ کا۔ تین فٹ والا اگر چھ فٹ والے سے حسد کرے تو وہ کبھی اس کی نگاہ کی وسعت حاصل نہیں کر سکتا۔ اگر وہ اسے گرا بھی دے تو اس کی نظر پھر بھی محدود رہے گی۔ لیکن اگر وہ اس کے کندھوں پر بیٹھے تو نو فٹ تک دیکھ سکتا ہے۔
اسی طرح جو عالم اپنے ہم عصر علمائے کرام، مصنفین اور محققین کی تحریروں سے سیکھتا ہے وہ دراصل ان کے کندھوں پر کھڑا ہوتا ہے — اور وہ بھی دور تک۔
خداوند یسوع المسیح نے فرمایا: "میرا جُوا اپنے اوپر اٹھا لو اور مجھ سے سیکھو کیونکہ میں حلیم ہوں اور دل کا فروتن۔ تو تمہاری جانیں آرام پائیں گی۔" (متی 11 : 29)
یہ آیت اس علم کا اعلیٰ ترین فلسفہ ہے — علم کا سرچشمہ عاجزی ہے، اور عاجزی کا سرچشمہ مسیح ہے۔
جو شخص علم کو فروتنی کے ساتھ حاصل کرتا ہے وہ خود مسیح کے اُس اصول میں شامل ہو جاتا ہے جس نے کہا: "کیونکہ جو کوئی اپنے آپ کو بڑا بنائے گا وہ چھوٹا کیا جائے گا اور جو اپنے آپ کو چھوٹا بنائے گا وہ بڑا کیا جائے گا۔" (لوقا 14 : 11)
پس علم کا کمال اس میں نہیں کہ آپ کتنی جلدی کسی کو زیر کر لیں بلکہ اس میں ہے کہ آپ کتنی عاجزی سے سیکھنے کو تیار ہیں۔ علم کا دشمن حسد ہے اور اس کا دوست محبت۔
اگر آپ علم میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو دوسروں کے علم سے برکت حاصل کریں، مطالعہ کریں اور کتابوں سے رفاقت رکھیں۔ کیونکہ جیسا لکھا ہے: "میرے لوگ عدم معرفت سے ہلاک ہوئے۔ چونکہ تو نے معرفت کو رد کیا اس لیے میں بھی تجھے رد کروں گا تاکہ تو میرے حضور کاہن نہ ہو، اور چونکہ تو اپنے خدا کی شریعت کو بھول گیا ہے اس لیے میں بھی تیری اولاد کو بھول جاؤں گا۔" (ہوسیع 4 : 6)
لہٰذا سچّا عالم وہ ہے جو علم کے ذریعے خدا کے جلال کو ظاہر کرے — اور جو عاجزی کے ذریعے علم میں بڑھتا جائے۔
انسانیتِ یسوع مسیح اور مصالحتِ نوعِ بشر
انسانیتِ یسوع مسیح مصالحتِ نوعِ بشر اور نجات عامّہ کی ناقابلِ تنسیخ ضمانت ہے۔ اقنومِ ثانی تجسم اختیار فرما کر بشر بنا:
«اور کلام مجسم ہوا اور فضل اور سچائی سے معمور ہو کر ہمارے درمیان رہا، اور ہم نے اُس کا ایسا جلال دیکھا جیسا باپ کے اکلوتے کا جلال» (یوحنا 1 : 14)
یہ تجسّد اس امر کا مظہر ہے کہ محبتِ خداوندی خود انسان کی سرحدوں میں داخل ہوئی تاکہ بشریت کو اپنی آغوشِ رحمت میں سمیٹ کر دلِ آدم کو رفاقتِ الٰہیہ کے حلقۂ صفا میں داخل کرے۔
اسی لیے رسولِ اعظم اعلان کرتا ہے کہ:
«سب چیزیں خدا کی طرف سے ہیں جس نے مسیح کے وسیلہ سے ہمارا اپنے ساتھ میل ملاپ کر لیا… خدا نے مسیح میں ہو کر دنیا کا اپنے ساتھ میل ملاپ کر لیا» (۲ کرنتھیوں 5 : 18-19)
اور پولس مزید تصدیق کرتا ہے:
«جب باوجود دشمن ہونے کے خدا سے اُس کے بیٹے کی موت کے وسیلہ سے ہمارا میل ہو گیا تو میل ہونے کے بعد ہم اُس کی زندگی کے سبب سے ضرور ہی بچیں گے» (رومیوں 5 : 10)
یوں انسانیتِ مسیح نہ صرف تجسمِ الٰہی ہے بلکہ وہ کامل انسان بھی ہے جس میں عملِ مصالحت پوری انسانیت کے لیے بالفعل وقوع پذیر ہوا۔
یہ عمل بامِ کمال صلیب پر پہنچا جہاں:
«باپ کو یہ پسند آیا کہ ساری معموری اُسی (مسیح) میں سکونت کرے اور اُس کے خون کے سبب سے جو صلیب پر بہا صلح کر کے سب چیزوں کا اُسی کے وسیلہ سے اپنے ساتھ میل کر لے» (کُلسیوں 1 : 19-20)
تاہم اس مصالحت کی مہرِ ابدی قیامت پر ثبت ہوئی، چنانچہ رسول کہتا ہے:
«لیکن فی الواقع مسیح مردوں میں سے جی اُٹھا ہے اور جو سو گئے ہیں اُن میں پہلا پھل ہوا۔ کیونکہ جب آدمی کے سبب سے موت آئی تو آدمی ہی کے سبب سے مردوں کی قیامت بھی آئی، اور جیسے آدم میں سب مرتے ہیں ویسے ہی مسیح میں سب زندہ کئے جائیں گے» (۱ کرنتھیوں 15 : 20-22)
پس قیامت یافتہ انسانیتِ یسوعِ مسیح ہی وہ ابدی عہد ہے جو مصالحت و نجاتِ نوعِ آدم کی قطعی اور دائمی ضمانت بن کر قائم ہے۔
ڈاکٹر پادری تھامس سعید