کیا ڈاکو جس سے مسیح خداوند نے فرمایا کہ "تو آج ہی میرے ساتھ فردوس میں ہو گا" ایک مسیحی تھا؟ کیونکہ اُس نے بپتسمہ تو لِیا نہیں تھا۔
اگر مسیحی نہیں تھا، تو کیا غیر مسیحی فردوس میں جا سکتے ہیں؟
اور اگر مسیحی تھا تو کیا مسیحی ہونے یا کہلانے کے لیے بپتسمہ لازم نہیں؟
پادری الیشع فیض عالم
اے صاحبِ جویائے حق! مسئلۂ ’’لِصِّ یمین‘‘ (دائیں جانب کے ڈاکو) کو مجمعِ الٰہیاتی میں یوں سمجھا جاتا ہے جیسے آئینۂ صفحۂ نجات—جہاں شریعتِ ظاہری اور عنایتِ باطنی ایک دوسرے کا تعارف کراتے ہیں۔
۱۔ کیا وہ ’’مسیحی‘‘ تھا؟
لِصِّ مذکور نے لحظۂ احتضار میں توبۂ قلبی اور اقرارِ لسانی کے ذریعے مسیح مصلوب کو ’’یاد فرما‘‘ کر کے اپنی ذات کو اُسی حقیقی ایمانِ مخلِّص میں داخل کیا جسے کلیسیا بعد ازاں محبت سے مزیَّن ایمان کہتی ہے۔ پس وہ حقیقتاً اُس بدنِ روحانی کا رکن ٹھہرا جسے آج ہم ’’کلیسیا‘‘ کہتے ہیں، اگرچہ علامتی ظہور یعنی آبِ تعمید اُس کے نصیب نہ ہوا۔ یوں وہ ’’مسیحی‘‘ تھا، مگر اُس کی مسیحیت نے نجات بخش ساکرامنٹ کو نہیں بلکہ براہِ راست کلمۂ مصلوب کو متعلقِ نجات پایا۔
۲۔ کیا غیر مسیحی فردوس میں جا سکتے ہیں؟
قانونِ معمول یہ ہے کہ اتحاد بالمسیح کے بغیر فردوس تک رسائی نہیں، کیونکہ ’’کوئی شخص باپ کے پاس نہیں آتا مگر میرے وسیلہ سے‘‘ (یوحنا ۱۴:۶)۔ تاہم، خدائے مطلق کے ’’اقتصادِ غیر محصور‘‘ کو خود الٰہیاتِ قدیمہ نے کبھی قیدِ ظواہر نہیں کیا؛ چنانچہ اگوستینوس نے لکھا: ’’خدا اپنے ساکرامنٹوں کا اسیر نہیں؛ اُس نے یہ قیود ہمارے لیے باندھی ہیں، اپنے لیے نہیں۔‘‘ لہٰذا جو غیر مسیحی بھی بیجوں کی صورت بویا ہوا کلمہ کے ذوق تک پہنچ کر سابق فضل کو قبول کرے، اُس کی عدالتِ اخروی عین ممکن ہے کہ رحمتِ مسیح کے احاطے میں آئے—لیکن ایسے قضایا استثنائی کہلاتے ہیں، نہ کہ معمولِ کُن۔
۳۔ بپتسمہ کی لزومیت؟
کلیسیا نے دو سطحیں متمیز کیں:
حکم کی ضرورت: ’’جس پر آبِ تعمید دستیاب ہے اور وہ عمداً پہلوتہی کرے، وہ حکمِ مسیح کا منکر ٹھہرتا ہے۔‘‘
ذریعے کی لازمیّت: ’’جب وسیلہ مہیا ہی نہ ہو—مثلِ لِصِّ یمین—تو ایمانِ خالص، جو بپتسمۂ نیّت کہلاتا ہے، فضلِ الٰہی کو مانع نہیں۔‘‘
سینٹ امبروز نے اسی پر فرمایا: ’’ڈاکو صلیب پر باندھا گیا مگر ایمان سے کھول دیا گیا؛ وہ پانی سے نہ دھویا گیا، مگر خون سے دُھل گیا۔‘‘
پس بپتسمہ ’’قاعدۂ معمول‘‘ ہے، حتمی شرطِ نجات صرف اُس وقت رہتی ہے جب اس کا انکار تعمداً ہو۔ خداوند کے فضل کو اُس کے احکام سے جدا مت کیجیے، مگر اُس فضل کے بحرِ بے کنار پر بھی حد بندی مت ٹھہریئے؛ کہ ’’جس نے ساکرامنٹ جاری کیے، وہ خود اُن کا پابند نہیں۔‘‘
ڈاکٹر پادری تھامس سعید