info@crcpk.org +92 306 0025592
Karachi, Pakistan
Apologetics

موضوع: خدائے واحد کے عقیدے کی پیشکش کا طریقۂ کار

محترم و معظم بزرگ، جناب جیمس جون پال صاحب کا ایک بیان فیس بک پر شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے یہ اعلان فرمایا ہے کہ وہ مسلسل دس ایام تک خدائے واحد کے موضوع پر تعلیمات پیش کریں گے۔ اس سلسلے میں ان کی ترتیب یہ ہوگی کہ اولاً خدائے ثالوث کی وضاحت کی جائے گی، بعد ازاں خدائے واحد کی حقیقت اور اس کے دلائل پر روشنی ڈالی جائے گی۔ چنانچہ وہ روزانہ تحریری صورت میں ایک نئی قسط کے ذریعے اپنے افکارِ عالیہ کو پیش فرمائیں گے۔ اس مبارک سلسلے کی پہلی قسط انہوں نے پہلے ہی نشر کر دی ہے۔

اس کے جواب میں، ہماری طرف سے بھی پہلی قسط پیشِ نظر ہے، جو اسی علمی ماحول میں، محبت، وقار اور استدلال کے ساتھ سامنے لائی جا رہی ہے۔ مجھے بزرگِ محترم، جناب جیمس پال صاحب کے بارے میں خاطر خواہ معرفت نہ تھی، تاہم جب میں نے ان کی جانفشانی، خلوصِ نیت، اور اپنے عقیدے کی ترویج میں علمی بصیرت و حکمت کو دیکھا، تو دل کو نہایت مسرت و انبساط حاصل ہوا۔

عموماً میری طبیعت گفتگو میں جواب دہی کی طرف مائل نہیں ہوتی اور نہ ہی میں ہر مقام پر خود کو جواب دینے کا مکلف سمجھتا ہوں، کہ اکثر لوگ علمی و ادبی مکالمے سے دامن بچاتے اور سیاست کے پردے میں چھپنا پسند کرتے ہیں۔ مگر بزرگوار جیمس پال صاحب کے اخلاق و اندازِ مکالمہ کو دیکھ کر میں قلبی طور پر محظوظ ہوا، اور اسی باعث میں نے ان کی محبت و اخلاص کے جواب میں لبیک کہنا مناسب جانا۔ البتہ میرا اندازِ کلام ان کی بزرگی و توقیر کو ملحوظ رکھتے ہوئے، نہایت ادب و احترام کے دائرے میں مقید رہے گا۔

خدائے واحد اور خدائے ثالوث

خدا کے وجود اور اس کی ماہیت کے متعلق انسان کا سب سے پہلا سوال ہمیشہ یہی رہا ہے: "خدا کیسا ہے؟" یہ سوال محض جذباتی یا اعتقادی نوعیت کا نہیں، بلکہ گہری عقلی، روحانی اور فطری جستجو کا تقاضا کرتا ہے۔ لہٰذا جب ہم خدائے واحد اور خدائے ثالوث کے مابین تقابل کرتے ہیں، تو لازم ہے کہ ہم بائبل مقدس کی تعلیمات کو پورے سیاق و سباق، لغت، (Progressive Revelation)، اور فلسفیانہ منہج کے ساتھ سمجھیں، نہ کہ محض ظاہری الفاظ کے محدود مفہوم پر اکتفا کریں۔

1۔ بائبل میں خدا کا تعارف

بلاشبہ بائبل مقدس کی ابتدا سے آخر تک خدا کی وحدانیت پر زور دیا گیا ہے:

"سُن، اے اسرائیل، خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے" (استثنا 6:4)

اسی طرح یسوع المسیح نے بھی کہا:

"خداوند اپنے خدا کو اپنے سارے دل، اور اپنی ساری جان، اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ" (متی 37:22)

مگر سوال یہ ہے کہ: کیا "خدا کی وحدت" کا مطلب "مطلق تنہا ہونا" ہے؟ یا "واحد وجود میں کثرتِ اقانیم کا حامل ہونا" بھی اس وحدت کا ایک گہرا راز ہے؟

2۔ تثلیث کی جڑیں بائبل ہی میں موجود ہیں

بائبل مقدس میں ہمیں ایسے متعدد اشارات ملتے ہیں جو خدا کی ماہیت میں کثرتِ صفات یا اقانیم (Personhoods) کی موجودگی کو بیان کرتے ہیں:

پیدائش 26:1 میں خدا فرماتا ہے: "آؤ ہم انسان کو اپنی صورت پر اپنی شبیہ پر بنائیں۔"

یہاں "ہم" اور "اپنی" کی جمع کا استعمال اس وحدت میں کثرت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

یسعیاہ 16:48 میں: "خداوند خدا نے اور اس کی روح نے مجھے بھیجا"

ان الفاظ میں تین اقانیم کی جھلک نمایاں ہے۔

"باپ اور بیٹے اور روح القدس کے نام پر بپتسمہ دو" (متی 28:19)

یہ تمام مقامات یہ واضح کرتے ہیں کہ بائبل کا خدا "واحد" ہے، مگر وہ "سراسر تنہا" نہیں بلکہ اس کی ذات میں کثرتِ صفات اور اقانیمی کثرت موجود ہے۔

3۔ خدائے واحد اور خدائے ثالوث میں فرق نہیں، تکمیل ہے

یہ سمجھنا اہم ہے کہ خدائے واحد اور خدائے ثالوث کوئی متضاد عقائد نہیں ہیں، بلکہ تثلیث، وحدت کی گہری، لامحدود اور ارفع صورت ہے۔

  • خدائے واحد: ذات کی وحدت (Essence) کا اعلان ہے۔
  • خدائے ثالوث: اقانیم (Persons) کی تمیز کا بیان ہے۔

چنانچہ ہم ایک خدا کو مانتے ہیں، جو اپنی ذات میں واحد ہے مگر اپنے اقانیم میں برابر الوہیت رکھتا ہے — یعنی باپ، بیٹا اور روح القدس۔

یہی راز ہے کہ خدا محبت ہے:

"خدا محبت ہے" (1 یوحنا 8:4)

کیونکہ محبت کے لیے محض تنہا ہونا کافی نہیں؛ محبت کرنے والا، محبت کا محبوب، اور محبت کا رشتہ — یہ تین عناصر درکار ہوتے ہیں، جو خدا کی ابدی تثلیث میں ہمیشہ سے موجود ہیں۔

محبت کی ماہیت کا ایک بنیادی تقاضا یہ ہے کہ اس میں تین لازم اجزاء شامل ہوں:

  • محبت کرنے والا (فاعل)
  • محبت کا محبوب (مفعول)
  • محبت کا باہمی رشتہ (فعلِ محبت)

اگر محبت حقیقی اور ابدی ہے تو یہ تینوں عناصر بھی ابدی اور غیر حادثاتی (non-contingent) ہونے چاہئیں۔ محض تنہا وجود، چاہے وہ کتنا بھی کامل ہو، محبت کی اس کمال کی تعریف پر پورا نہیں اتر سکتا، کیونکہ محبت بذاتِ خود بین الوجودی (interpersonal) تعلق کا تقاضا کرتی ہے۔

یہی وہ فلسفیانہ اور وجودی بنیاد ہے جس کی بنا پر ہم سمجھتے ہیں کہ "خدا محبت ہے" — نہ صرف کسی زمانی مرحلے سے، بلکہ اپنی ابدی اور لامحدود ہستی میں۔ اگر خدا ازل سے محبت ہے، تو ازل سے ہی اس میں محبت کرنے والا، محبوب اور محبت کا رشتہ موجود ہونا ضروری ہے۔

یہ ابدی محبت تثلیثی وجود میں ہی ممکن ہے، جہاں:

  • باپ محبت کرنے والا ہے،
  • بیٹا (کلمہ) محبوب ہے،
  • اور روح القدس وہ محبت ہے جو باپ اور بیٹے کے درمیان جاری اور زندہ ہے۔

یوں تثلیث کا عقیدہ محض ایک مذہبی مفروضہ نہیں، بلکہ خدا کی محبت کی منطقی ناگزیریت (logical necessity) کا اظہار ہے۔

واحد تثلیثی خدا ہی وہ ہستی ہو سکتا ہے جس میں ازل سے، اپنی ذات میں، محبت کا کامل اظہار موجود ہو — نہ کہ تخلیق کا محتاج ہو کہ محبت کا مظاہرہ کر سکے۔

اگر خدا وحدتِ محض ہوتا (یعنی غیر تثلیثی)، تو وہ محبت کرنے والا تو ہو سکتا تھا، لیکن محبت کا معروض اور باہمی رشتہ ازل سے عدم میں ہوتا، اور اس صورت میں محبت اس کی ثانوی صفت بن جاتی، نہ کہ اس کا لازمی جوہر (essential nature)۔

پس، تثلیث محض عقلی تفنن نہیں، بلکہ خدا کی محبت کے ابدی وجود کی فلسفیانہ اور منطقی توضیح ہے۔ خدا تثلیث ہے، اس لیے خدا محبت ہے؛ اور خدا محبت ہے، اس لیے خدا تثلیث ہے۔

4۔ بائبل میں "ثالوث" کا لفظ نہ ہونا

یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ بائبل میں "ثالوث" (Trinity) کا لفظ کہیں نہیں آیا۔ یہ اعتراض محض الفاظ پر مبنی ہے، مفہوم پر نہیں۔

بائبل میں "توحید" (Monotheism) کا لفظ بھی اس اصطلاحی صورت میں نہیں آیا جسے فلسفہ کلام میں آج ہم بیان کرتے ہیں، مگر پوری بائبل اس کی تعلیم دیتی ہے۔

اسی طرح "ثالوث" بائبل کی تعلیمات کا نچوڑ اور خلاصہ ہے جسے بعد ازاں کلیسیا نے مرتب کیا تاکہ ایمان کی حفاظت ہو۔

5۔ تاریخی تسلسل

تمام ابتدائی کلیسیائی عقائد، بشمول نائیکیا کونسل (325 عیسوی)، نے بائبل کی روشنی میں تثلیث کو بیان کیا۔ یہ کوئی غیر الہامی ایجاد نہیں بلکہ الہام کی سمجھ بوجھ کی تدریجی ترقی تھی، جیسا کہ خود بائبل میں بھی عہدِ جدید میں خدا کا مزید کامل انکشاف ہوا۔

تثلیث فی التوحید (Triunity) کے حق میں بائبل مقدس سے قبل از کونسل نیکایہ (325 عیسوی سے پہلے) دلائل اور حوالے بھی فراہم کروں۔ "اثناسس نے تثلیث کا عقیدہ ایجاد کیا" جیسے دعووں کا علمی رد بھی مہذب انداز میں پیش کروں۔

خدائے واحد اور خدائے ثالوث: ایک مزید توضیح

انسانی عقل کی ایک بنیادی کمزوری یہ ہے کہ وہ اپنی محدودیتوں کے باوجود خدا کی لامحدود حقیقت کو مکمل طور پر سمجھنے کی خواہاں ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ جس خدا کو انسان کی عقل مکمل طور پر سمجھ لے، وہ خدا انسان کا خالق نہیں بلکہ انسان کا تصور ہوگا۔

یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ "خدائے ثالوث" (Trinity) کو عقلِ محض سے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو عقل حیرہ زدہ رہ جاتی ہے۔ لیکن یہی تو خدا کے جلال اور اس کی ذات کی رفعت کی دلیل ہے۔

خدا کی ذات عقل سے بلند ہے، عقل کے خلاف نہیں۔ خدا وہی ہے جو اپنی الہام میں اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے، اور ہم اس الہام پر ایمان لاتے ہیں، نہ کہ اپنے محدود فہم پر۔

جہاں تک یہ کہا جاتا ہے کہ "تثلیث کا عقیدہ اثناسس نے دیا"، تو یہ محض تاریخی بے خبری یا جان بوجھ کر غلط بیانی ہے۔ اثناسس نے کوئی نیا عقیدہ نہیں گھڑا، بلکہ ابتدائی مسیحی ایمان کو بیرونی غلط تشریحات سے بچانے اور صحیح تعبیر پیش کرنے کی کوشش کی۔

کونسل نیکایہ (325 عیسوی) میں جو ایمان کا اظہار ہوا، وہ محض نئے الفاظ میں قدیم apostolic (رسولی) ایمان کا دفاع تھا، نہ کہ کوئی نئی تعلیم۔

بائبل مقدس سے قبل از نیکایہ تثلیث فی التوحید کے دلائل

١۔ تثلیث کے اشارات عہدِ عتیق میں

پیدائش 26:1 — "تب خدا نے کہا: آؤ ہم انسان کو اپنی صورت پر، اپنی شبیہ کی مانند بنائیں۔"

لفظ "ہم" اور "اپنی" جمع کے صیغے میں ہیں، جو خدا کی واحدانیت میں کثرت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

یسعیاہ 6:8 — "اور میں نے خداوند کی آواز سنی، جو کہہ رہا تھا: میں کس کو بھیجوں؟ اور کون ہمارے لئے جائے گا؟"

یہاں بھی "ہمارے" کا استعمال ہے۔

٢۔ تثلیث کے اشارات عہدِ جدید میں

متی 28:19 — "پس تم جا کر سب قوموں کو شاگرد بناؤ اور ان کو باپ، بیٹے اور روح القدس کے نام پر بپتسمہ دو۔"

یہ تینوں الگ الگ ہستیاں ہیں مگر "نام" واحد ہے، یعنی کثرت میں وحدت۔

2 کرنتھیوں 14:13 — "خداوند یسوع مسیح کا فضل، خدا کی محبت اور روح القدس کی رفاقت تم سب کے ساتھ ہو۔"

پولس رسول نے تینوں اقانیم کا مساوی ذکر فرمایا۔

یوحنا 1:1-3 — "ابتدا میں کلام تھا، اور کلام خدا کے ساتھ تھا، اور کلام خدا تھا...۔ سب چیزیں اسی کے وسیلہ سے پیدا ہوئیں۔"
اعمال 3:5-4 — "تو نے خدا سے جھوٹ بولا۔"

یہاں حننیاہ کے واقعہ میں روح القدس کو براہِ راست خدا کہا گیا۔

عقیدہ تثلیث کا پس منظر اور رسولی تعلیم

تاریخی شواہد کے مطابق:

  • اگنیشس آف انطاکیہ (تقریباً 110 عیسوی) اپنی تحریروں میں باپ، بیٹے اور روح القدس کا واضح تذکرہ کرتے ہیں۔
  • جسٹن شہید (تقریباً 150 عیسوی) اپنے مکالمات میں خدا کی تثلیث کی وضاحت کرتے ہیں۔
  • ایرینیس (تقریباً 180 عیسوی) خدا کے "دو ہاتھوں"، یعنی کلمہ اور روح کا ذکر کرتے ہیں۔
  • طرطلیان، دیوفیلس آف انطاکیہ، اور دیگر ابتدائی کلیسیائی مصنفین بھی تثلیثی خیالات پیش کرتے ہیں۔

یہ سب قبل از نیکایہ ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا کہ تثلیث کا عقیدہ اثناسس نے ایجاد کیا، تاریخی لحاظ سے بالکل غلط ہے۔ اثناسس نے صرف ان خیالات کا دفاع کیا جو صدیوں سے موجود تھے اور رسولوں سے چلے آرہے تھے۔

خدا نے اپنی ذات کو مکمل طور پر کبھی "تین خدا" کے طور پر ظاہر نہیں کیا، بلکہ ہمیشہ ایک خدا کے طور پر جو تین اقانیم میں اپنی ذات کا انکشاف فرماتا ہے۔ تثلیث کوئی انسانی ایجاد نہیں، بلکہ الہامِ الٰہی کا ایک گہرا راز ہے۔

وحدتِ محض کا فلسفیانہ مسئلہ

جو خدا "وحدتِ محض" ہو یعنی جس میں کوئی بھی کثرت، تنوع یا صفات کا تصور نہ ہو، وہ درحقیقت ایک "مطلق ابہام" (absolute indeterminacy) بن جائے گا۔ ایسا خدا نہ کچھ جان سکتا ہے، نہ کچھ کر سکتا ہے، نہ محبت کر سکتا ہے، نہ حکمت رکھتا ہے — کیونکہ یہ سب صفات ہیں، اور وحدتِ محض میں صفات کی اجازت نہیں۔

لہٰذا، خدا میں حقیقی اور لازمی صفات کا ہونا، عقل، منطق، اور فلسفے کے مطابق ضروری ہے۔

1۔ منطقی تجزیہ: وحدتِ محض کا مسئلہ

تعریف: وحدتِ محض کا مطلب یہ ہے کہ ذات میں کوئی تمییز (distinction)، کوئی کثرت، کوئی خصوصیت نہ ہو۔ ذات ایک ایسی "مطلق سادگی" (absolute simplicity) ہو کہ نہ اس کے بارے میں کوئی بات کہی جا سکے اور نہ ہی کوئی صفت نسبت دی جا سکے۔

  • اگر خدا محض وحدت ہے اور کوئی صفت نہیں رکھتا تو پھر "خدا" اور "عدم" (عدمِ محض) میں کیا فرق ہوگا؟
  • ایک مطلق غیر مشخص (undetermined) وجود، جس میں کوئی خاصیت نہیں، درحقیقت وجود بھی نہیں کہلا سکتا، کیونکہ وجود کسی نہ کسی تعین (determination) کا متقاضی ہے۔
وجود = تعین (determination)
عدمِ تعین = عدم (non-existence)

یعنی جو بالکل غیر مشخص ہو، وہ تو معدوم ہے۔ پس، اگر خدا میں کثرتِ صفات نہ ہو، تو خدا محض ایک نام رہ جاتا ہے — نہ کوئی علم، نہ قدرت، نہ حکمت، نہ محبت، نہ عدل۔ یہ خدا بیکار اور غیر فعال (impotent) ہوگا۔

2۔ فلسفیانہ تجزیہ: حقیقت کی نوعیت

ارسطو (Aristotle) نے اپنی Metaphysics میں کہا کہ:

"حقیقت وہ ہے جس میں عمل (act) اور استعداد (potency) کا رشتہ ہو۔"

لیکن اگر خدا میں نہ کوئی صفت ہو اور نہ کوئی تعین، تو پھر اس میں کوئی "عمل" بھی نہیں ہوگا — کیونکہ عمل صفات کے بغیر ناممکن ہے۔

اسی طرح، تھامس ایکویناس (Thomas Aquinas)، مسیحی فلسفی، اپنی مشہور کتاب Summa Theologiae میں وضاحت کرتے ہیں:

"خدا کی ذات اور اس کی صفات میں امتیاز نہیں ہے، لیکن صفات حقیقی ہیں، کیونکہ وہ خدا کی کامل ہستی کی جھلکیاں ہیں۔"

یعنی خدا کی صفات درحقیقت خدا کی ذات کی عکاسی ہیں، اور اس کی ذات میں حقیقی طور پر موجود ہیں۔

تھامس ایکویناس مزید دلیل دیتے ہیں کہ:

  • خدا علم رکھتا ہے (Scientia)
  • خدا محبت کرتا ہے (Caritas)
  • خدا عادل ہے (Iustitia)

یہ سب صفات اگر حقیقی نہ ہوں تو خدا کی پہچان ممکن ہی نہیں۔ ایک غیر مشخص ہستی کا کوئی تعلق مخلوق سے نہیں بن سکتا۔

3۔ مسیحی فلسفیوں کی مزید دلیلیں

آگسٹین (St. Augustine) نے کہا:

"خدا روشنی ہے، خدا محبت ہے — یہ الفاظ کسی تشبیہ کے طور پر نہیں، بلکہ حقیقی معنوں میں کہے گئے ہیں۔"

اگر خدا میں حقیقی طور پر محبت یا حکمت نہ ہو تو وہ نہ کسی سے محبت کر سکتا ہے، نہ ہدایت دے سکتا ہے۔

کپلر (Johannes Kepler) جیسے سائنس دانوں نے بھی کائنات کے نظم اور ترتیب کو خدا کی حکمت اور قدرت کی حقیقی صفات کا عکس کہا ہے۔

4۔ نتیجہ: کثرتِ صفات عقلی اور منطقی طور پر ضروری ہے

  • خدا کی صفات اس کی کامل اور مکمل ہستی کا لازمی نتیجہ ہیں۔
  • کثرتِ صفات ذاتِ خداوندی میں کوئی تقسیم یا ٹکڑے ٹکڑے ہونے کو لازم نہیں کرتی، بلکہ صفات عینِ ذات ہیں۔
  • اگر صفات نہ ہوں تو خدا عدم (nothingness) ہو جاتا ہے، جو کہ خلافِ عقل ہے۔

لہٰذا، فلسفہ، منطق، اور مسیحی الٰہیات، تینوں یہ ثابت کرتے ہیں کہ خدا کی ذات میں کثرتِ صفات کا ہونا ضروری ہے ورنہ خدا خالی، غیر فعال اور بیکار (useless) ٹھہرے گا۔

خدائے واحد کے دو مختلف تصورات

عقلی، منطقی، اور فلسفیانہ بحث کے وقت یہ نکتہ انتہائی اہم ہے کہ "خدائے واحد" کی تعبیر میں دونوں فریق (وحدتِ محض کے قائلین اور تثلیث فی التوحید کے قائلین) میں بنیادی فرق پایا جاتا ہے۔

1۔ وحدتِ محض کے قائلین کا موقف

  • جب کوئی ونیس بلیور (Oneness believer) یا اس کا کوئی مفسر، استاد یا رہنما "خدائے واحد" کا دعویٰ کرتا ہے، تو وہ درحقیقت وحدتِ محض (Absolute Unity) کا تصور پیش کر رہا ہوتا ہے۔
  • ان کے نزدیک خدا ایسی ایک وحدت ہے جس میں کسی قسم کی کوئی کثرت، کوئی صفات کی تعدد، کوئی اقانیم یا کوئی باطنی تمییز (distinction) موجود نہیں۔
  • لہٰذا جب وہ "تثلیث" پر تنقید کرتے ہیں، تو وہ الزام لگاتے ہیں کہ تثلیث کے قائلین "تین خداؤں" (Tritheism) کے ماننے والے ہیں۔

2۔ تثلیث فی التوحید کے قائلین کا موقف

  • اس کے برعکس جب کسی مسیحی مبلغ یا مفسر سے سوال کیا جاتا ہے کہ وہ خدا کی وحدانیت کو کیسے بیان کرتا ہے، تو وہ یہ کہتا ہے کہ "خدائے ثالوث" (Trinitarian God) ہی خدائے واحد کی مکمل اور حقیقی تفہیم ہے۔
  • ان کے مطابق خدا کی ذات میں وحدت اور کثرت دونوں ایک کامل ہم آہنگی کے ساتھ موجود ہیں:
  • وحدت ذات میں ہے (one being)
  • کثرت شخصیات (persons) میں ہے

3۔ نتیجہ: بنیادی فرق

اس لیے جس وقت وحدتِ محض کا قائل "خدائے واحد" کہتا ہے، وہ دراصل ایک ایسے خدا کا عقیدہ رکھتا ہے جو کسی بھی قسم کی داخلی کثرت یا صفاتی کثرت سے خالی ہے۔

جبکہ تثلیث کے قائلین جب "خدائے واحد" کہتے ہیں، تو وہ ایک ایسی وحدت مراد لیتے ہیں جس میں کثرتِ اقانیم (plurality of persons) کے ساتھ حقیقی اور لازمی وحدت (essential unity) بھی موجود ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ دونوں گروہ "واحد" کا لفظ استعمال تو کرتے ہیں، مگر ان کے تصورِ وحدت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

4۔ فلسفیانہ تبصرہ

اگر خدا وحدتِ محض ہو — یعنی خالص، غیر متعین (undifferentiated) اور کسی بھی نوع کی صفات یا باطنی تمییز سے خالی — تو پھر ایسا خدا:

  • علم نہیں رکھ سکتا،
  • محبت نہیں کر سکتا،
  • کلام نہیں کر سکتا،
  • ارادہ نہیں کر سکتا،

کیونکہ یہ تمام اعمال یا صفات "کثرت" کو ظاہر کرتے ہیں، اور وحدتِ محض میں کثرت کا امکان نہیں۔

نتیجتاً وحدتِ محض کا خدا خالی، جامد اور غیر فعال ہوگا — جو نہ زندہ ہوگا، نہ محبت کرنے والا، نہ بولنے والا۔

5۔ مسیحی فلسفیوں کی تائید

  • آگسٹین (St. Augustine) کہتا ہے کہ خدا "محبت" ہے (1 John 4:8) — اور محبت ہمیشہ ایک محبت کرنے والے (lover)، ایک محبوب (beloved)، اور ایک محبت کے ربط (bond of love) کو فرض کرتی ہے۔
  • لہٰذا خدا کی ذات میں لازمی طور پر کثرت موجود ہے، ورنہ خدا ازلی طور پر محبت نہیں کر سکتا۔
  • تھامس ایکویناس (Thomas Aquinas) فرماتے ہیں کہ خدا کی صفات، خدا کی ذات میں کمال کے ساتھ متحد ہیں، اور کثرتِ صفات کا ہونا خدا کی وحدانیت کے خلاف نہیں بلکہ اس کا کمال ہے۔
  • ریچرڈ آف سینٹ وکٹر (Richard of St. Victor) نے وضاحت کی کہ کامل محبت کے لیے کم از کم دو اشخاص (persons) ضروری ہیں، اور کمال محبت کے اظہار کے لیے تین ہونا زیادہ کامل ہے۔

اس بنیاد پر تثلیث خدا کی محبت کی کامل تشریح ہے۔

  • اگر خدا وحدتِ محض ہو تو وہ غیر ذاتی (impersonal) اور غیر فعّال (inactive) ہوگا۔
  • اگر خدا تثلیثی وحدت ہو تو وہ ذاتی (personal)، محبت کرنے والا، عالم، ارادہ کرنے والا اور کلام کرنے والا ہوگا۔

لہٰذا، فلسفے، منطق، اور عقلی اصولوں کے مطابق خدا میں ایک باطنی کثرت (plurality) کا ہونا ضروری ہے، ورنہ خدا کا تصور خالی اور بیکار بن کر رہ جائے گا۔

Share this article:
Older Post میرے لُوگ عَدَم مَعْرِفَت سے ہَلاک ہُوئے Newer Post عنوان: کیا مسیحی تین خدا مانتے ہیں؟